برین ٹیومر سے کیا مراد ہے اور برین ٹیومر کی کتنی اقسام ہوتی ہيں؟

ڈاکٹر عدنان جبار اس ویڈیو میں تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہيں۔

برین ٹیومر دماغ میں خلاف معمول سیلز کے لوتھڑے کو کہا جاتا ہے۔ برین ٹیومر کی کئی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ بعض ٹیومرز کینسر کی شکل نہیں اختیار کرتے، جنہيں بینائن (benign)، یعنی غیرمہلک، ٹیومرز کہا جاتا ہے۔ تاہم بعض ٹیومرز کینسر کی شکل اختیار کرتے ہیں، اور انہيں ملیگننٹ (malignant)، یعنی مہلک، ٹیومرز کہا جاتا ہے۔ بعض ٹیومرز دماغ میں شروع ہوتے ہیں، جنہيں پرائمری کینسر (primary cancer) کا نام دیا گیا ہے، اور بعض دفعہ جسم کے دوسرے حصوں میں شروع ہونے والا کینسر دماغ تک پہنچ سکتا ہے، جسے سیکنڈری یا میٹاسٹیٹک کینسر (secondary/metastatic) کہا جاتا ہے۔

 

دنیا کے مختلف طبی اداروں کی طرح برین ٹیومر فاؤنڈیشن آف پاکستان برین ٹیومرز کی نشاندہی کے لئے عالمی ادارہ صحت کی درجہ بندی کا استعمال کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت برین ٹیومرز کی نشاندہی کے لئے دیکھتے ہيں کہ یہ سیلز سب سے پہلے کہاں پیدا ہوئے اور وہ جسم میں کس طرح پھیلتے ہيں۔ اس طرح ٹیومر کے غیرمہلک (سب سے کم جارحانہ) اور مہلک (سب سے زيادہ جارحانہ) ہونے کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، پھیلنے کی شرح کے لحاظ سے ٹیومر کی چند اقسام کو ایک گریڈ بھی دیا جاسکتا ہے۔ غیرمہلک ٹیومرز کو گریڈ  I جبکہ مہلک ٹیومرز کو گریڈ IV قرار دیا جاتا ہے۔


عالمی ادارہ صحت نے 9 مئی 2016 کو مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرنے والی ٹیومرز کی اقسام کی نئی درجہ بندی جاری کی، جس کی بدولت ڈاکٹروں کے لئے مریضوں کی زیادہ درستی کے ساتھ تشخیص، علاج کے بہتر منصوبہ جات تیار کرنا، اور جسم کے علاج کے خلاف ردعمل کا بہتر طور پر پیشگوئی کرنا ممکن ہوا۔ ان کی نئی درجہ بندی یہاں موجود ہے۔

برین ٹیومرز کی اقسام:

پرائمری: یہ ٹیومرز دماغ میں شروع ہوتے ہیں

میٹا سٹیٹک: یہ ٹیومز جسم کے دوسرے حصوں میں شروع ہوتے ہوئے دماغ تک پہنچتے ہيں۔

 

غیرمہلک: یہ ٹیومز زيادہ تیزی سے نہيں پھیلتے اور کینسر کی شکل اختیار نہيں کرتے۔ تاہم اگر غیرمہلک ٹیومز دماغ کے مخصوص حصوں میں یا ان کے اطراف بڑھ رہے ہوں تو ان کا علاج مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔

 

مہلک: یہ ٹیومرز کینسر کی شکل اختیار کرتے ہيں۔ غیرمہلک ٹیومرز اکثر زيادہ نہيں پھیلتے، لیکن مہلک ٹیومرز بعض دفعہ بہت تیزی سے پھیلتے ہیں اور نہایت جارحانہ طور پر جسم پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ بہت جلدی دماغ کے دوسرے حصوں پر پہنچ سکتے ہيں۔